Islamicinfo.com

Islamic Information Islam religion Information-Islamic Belief and Islamic Current Affairs
Subscribe

حدیث نبویﷺ

February 22, 2017 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized


عملی منافق کی چار علامات by mohammadrafique786

Hadith 2017 Best

February 17, 2017 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized

حدیث نبوی،ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پرچھ حقوق

February 08, 2017 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized

اللہ تعالیٰ کا حکم اور وسیلہ

January 31, 2017 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized

islam

اللہ تعالیٰ کا حکم اور وسیلہ
محمد رفیق اعتصامی
ارشاد باری تعالیٰ ہے’’حکم تو صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہے ‘‘اور فرمایا ’’اسی( اللہ) کے ہاتھ میں ہے بادشاہی زمینوں او ر آسمانوں کی‘‘(القرآن)ان آیات کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات میں حکم صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کا چلتا ہے اور کوئی دوسرا اس کام میں شریک نہیں بارشوں کا برسانا، ہواؤں کا چلنا، فصلوں کا پکنا ، زندگی اور موت اور نفع اور نقصان وغیرہم سب کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں حتی کہ مخلوقات کی حرکات و سکنات چلنا پھرنا ، کھانا پینا اور کاروبار وغیرہ بھی اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور اسکے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔
اسکی ایک چھوٹی سی مثال اس طرح ہے کہ کسی شخص نے ارادہ کیا کہ وہ کھانا کھائے یا چائے پئے مگر اللہ تبارک و تعالیٰ یہ جانتے ہیں کہ چائے کا کپ پکڑنے کیلئے اس کے جسم کا کونسا پٹھہ یا اعصاب حرکت میں آئیں گے تو یہ کپ پکڑے گا اور منہ تک لے جائے گا؟ اور اگر کسی وجہ سے مشیّت الٰہی اسکو مقتضی نہ ہو تو اسکا جسم حرکت نہیں کر پائے گا اور وہ چائے پینے یا کھانا کھانے سے قاصر ہو گا۔؂
مگر عام طور پر انسانی شعور و ادراک میں یہ بات نہیں آتی اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ سارے کام میں اپنے ارادہ و اختیار سے ہی کرتا ہوں مگر ہوتا یہ ہے کہ وہ ارادہ تو کرتا ہے مگر اسے پایہ تکمیل تک پہچانا اللہ تعالیٰ کاکام ہے اسی لئے قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ وہ کیا چاہیں گے مگر جب تک اللہ نہ چاہے۔‘‘
مگر قانون قدرت یہ ہے کہ دنیا میں سب کام وسائل و اسباب سے انجام پاتے ہیں اگرچہ اللہ تعا لیٰ اپنے حکم کو پورا کرنے میں وسائل کے محتا ج نہیں۔
مثلاً اللہ تبارک و تعالیٰ اس پر قادر ہیں کہ بغیر کھائے پئے بھوک و پیاس مٹا دیں یا کوئی ایسا نظام بنادیں کہ انسان کو گندم کی فصل ہی نہ اگانی پڑے اور پھر اسکاآٹا پیس کر روٹی پکانی پڑے بلکہ اس کیلئے لذیذ کھانوں کا پکا پکایا خوان ہی آسمان سے نازل ہوجائے مگر عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ کائنات میں ظاہری اسباب کے علاوہ باطنی اسباب کا بھی ایک عظیم الشان سلسلہ جاری ہے جس کام نے ہونا ہوتا ہے اس کا پہلے حکم اترتا ہے وسیلے بعد میں مقرر ہوتے ہیں کہ اس کام نے کس ذریعے اور وسیلے سے پورا ہونا ہے ۔ ( تفسیر القرآن از علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ )
یہی وجہ ہے کہ آدمی گولی سے بچ جاتا ہے اور کنکر سے مر جاتا ہے کیونکہ اس کی موت کا حکم اب ہوا ہے اور کسی کو دنیا بھر کے ڈاکٹروں سے علاج کروانے کے باوجود بھی افاقہ نہیں ہوتا اور جب شفا ہونا ہوتی ہے تو ایک خاک کی پڑیا سے بھی ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ اس کی شفا کا حکم اب نازل ہوا ہے اصل چیز اللہ کا حکم ہے۔
لہٰذ اا سلامی تعلیمات یہ ہیں کہ انسان جب بھی کسی کام کو کرنا چاہے تو انشاء اللہ کہہ لے کہ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہو گا تو کام ہوگا ورنہ نہیں، کیونکہ ان شاء اللہ کہنے والا شخص براہ راست مسبب الاسباب کو پکارتا ہے اور اپنی عاجزی و بے کسی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی قدرت کاملہ کا اعتراف کرتے ہوئے اس سے یوں عرض گزار ہوتا ہے کہ باری تعالیٰ اگر آپ چاہیں تو میرا کام ہو سکتا ہے ۔ بے شک آپ ہی کی طرف تمام کام لوٹا ئے جاتے ہیں۔ تو اللہ تبارک و تعالی بھی اس کی دعا رد نہیں کرتے کیونکہ اس نے خود ہی قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ’’مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا‘‘ (القرآن لہٰذا ہر کام کرنے سے پہلے ان شاء اللہ کہنا چاہئے تاکہ ہمارا رابطہ عالم اسباب سے جڑ جائے اور کام ہوجائے کیونکہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کاحکم ہے اور اس حکم نے کس ذریعہ یا وسیلہ سے پورا ہونا ہے یہ چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔

Attached Images