Islamicinfo.com

Islamic Information Islam religion Information-Islamic Belief and Islamic Current Affairs
Subscribe

Dimension of Belief

April 21, 2015 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized

 

ads mosque

Dimension of Belief


Articles Of The Week

index

شیطان کا وسوسہ، تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟

36135-1

نناوے بیماریوں کا صرف ایک علاج

index

دلوں کا زنگ اور اسکی سیاہی کیا ہے؟

index

عملی منافق کی چار علامات

images1

The Reason why Fasting is Prescribed


 

images

Why do Muslims Fast?


 

images2

The Origins of Shirk


 

images

پردہ عورت کا زیور ہے

images5

Blessings of Surah-e-Fatiha

images

Allah is Beautiful and Loves Beauty

souls

Do Souls of the Dead return back to this World?

images

Hazrat Ibrahim (A.S)

b02

Prophecies of the Quran Addressed to Muhammad (PBUH)

Reality of “Nafs-i-Ammarah” (Inordinate soul)

قبر میں روشنی

Keys to Happiness

index6

Revenge of The Truth

 

How Do Muslims Treat the Elderly?

 

3Thumb  

Peace in Mind, Heart and Soul

 

images  

Allah is Beautiful & Loves Beauty

 

 

Embracing Islam

 

Shahadah-gold  

Seek Allah protection against despair, miseries

 

 

Some Benefits of Islam

 

 

You ask and the Holy Quran answers

 

 

Action, Reaction

 

islam  

Omar ibn al-Khattab Journey to Islam

 

 

Abusing Islam and its Teachings

 

 

The Challenge of the Quran

 

 

A” for-sale goods”

 

index  

Partner for Life

 

images  

Khuda Ka Qanoon Kabhi Badla Nahi Karta

 

 

Flight of the Soul

 

 

Sha’ban-nul-Muazzam ke Barkat

 

interesting-facts-about-al-quran-majestic-islam  

Why were we Created?

 

 

Concept of God in Islam

 

islam  

Life After Death

 

 

اسلام اور انسانی زندگی

April 11, 2015 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized

To read useful Islamic articles, please click on the image nature-landscapes_hdwallpaper_paradise-valley_21465

images

اسلام اور انسانی زندگی

محمد رفیق اعتصامی

صبح ہوتی ہے لوگ اٹھتے ہیں اور ضروریات سے فارغ ہو کر اپنے اپنے کام پر چلے جاتے ہین۔ شام کو واپس آتے ہیں اور کھانا کھاکر سوجاتے ہیں پھر صبح ہو جاتی ہے اور دوبارہ یہی کام پھر شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح زندگی کے دن گزرتے رہتے ہیں بقول شاعر…..
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔۔عمر یونہی تمام ہوتی ہے
انسان جب ہوش سنبھالتا ہے تو وہ اپنے مستقبل کے بارہ میں پلاننگ شروع کر دیتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا؟آیا وہ ڈاکٹر بنے گا، انجینئر بنے گا، فوج میں کسی اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوگا یا ایک کامیاب بزنس مین بنے گا وغیرہ۔اس کے سارے خیالات اور صلا حیتیں اسی نقطہ پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ کیسے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے تا کہ زندگی عیش و آرام سے گزرے؟ اس گردش ایام اور معمولات زندگی نے انسان کو ایسا مصروف بنا دیاہے کہ وہ یہ سوچتا ہی نہیں کہ وہ اس دنیا میں کیوں آیا تھا اور اسکا اصل مقصد حیات کیا تھا؟
کچھ عرصہ قبل اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ یورپ کے ایک ملک میں سینکڑوں لوگوں نے اجتماعی طور پر خود کشی کر لی انھوں نے مرنے سے قبل ایک تحریر چھوڑی کہ ہم نے زندگی کی تمام بہاریں دیکھ لی ہیں اور ہمارے پاس عیش و آرام کی کسی چیز کی کوئی کمی نہ تھی مگر ہم یہ سمجھ نہیں پائے کہ ہم اس دینا میں کیوں آئے تھے؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی زندگی اور موت کی پیدائش اس لئے ہے کہ اسے آزمایا جائے کہ کون اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتا ہے اور سیدھی راہ پر چلتا ہے اور کون اسکے خلاف چلتا ہے؟ فرمان الٰہی ہے’’ نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے‘‘(الملک: پارہ ۲۹) سوال یہ ہے کہ از روئے قرآن اچھے اعمال کونسے ہیں؟ تو یہ وہ اعمال ہیں جو دین اسلام کے مطابق کئے جائیں۔ آنحضرتﷺ جو تمام انسانوں کی طرف نبی اور رسولﷺ بنا کر بھیجے گئے انھوں نے اپنے قول و عمل سے زندگی گذارنے کی ایک نہایت اچھی مثال قائم کی ہے جسے اسوۂ حسنہ کہا جاتا ہے فرمان الٰہی ہے’’بیشک تم میں نبی اکرمﷺ کی ذات بہترین نمونہ ہے‘‘( القرآن) اب جو عمل بھی اسوۂ حسنہ کے مطابق کیا جائے گا وہ اچھے اعمال میں شمار ہو گا، اس لحاظ سے رزق حلال کمانا،کھانا کھانا ،پانی پینا،سونا حتی کہ بیت الخلاء میں جانا تک عبادت ہے اور اچھے اعمال ہیں اگر وہ آپکے اسوہ حسنہ کے مطابق کئے جائیں۔
اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق زندگی دو طرح کی ہے ایک عارضی زندگی جو کہ اس دنیا کی زندگی ہے ۔ اور دوسری آخرت کی زندگی جو کہ اصل اور دائمی زندگی ہے ۔دنیاوی زندگی ایک آزمائش گاہ ہے جہاں انسان کو ہر طرح سے آزمایا جاتا ہے اور یہ زندگی دارالعمل اور کھیتی کی مثال ہے کہ یہاں انسان جو کچھ بوتا ہے آخرت میں وہی کاٹتا ہے۔
اور اصلی زندگی آخرت کی زندگی ہے جوکہ حقیقی زندگی ہے۔ اور وہاں زندگی کی دو صورتیں ہیں جنت کی زندگی اور دوزخ کی زندگی۔ جنت کی زندگی دائمی رضا اور عیش و عشرت کی زندگی ے اور اس کا حاصل ہونا بہت بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جو شخص دوزخ کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیاوہ شخص کامیاب ہو گیا‘‘(القرآن)۔ اور جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا اور نہ ہی اسکے بارہ میں کوئی تصور قائم کیا جا سکتا ہے۔یعنی اصل کامیابی یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہو جائے۔
دنیا میں ہر شخص کی یہ کو شش ہوتی ہے کہ وہ ایک کامیاب و کامران زندگی بسر کرے مگر ایسا کرنے کیلئے اسے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے ایک مسلسل اور زبردست جدوجہد!!
اس لحاظ سے زندگی ایک مسلسل جاری رہنے والی جدوجہد کا نام ہے دنیاوی زندگی میں انسان کو اپنے کاروباری حریفوں، نا موافق حالات اور مخالفین سے واسطہ پڑتا ہے اگر وہ انکے خلاف حکمت عملی اور ہمت سے کام نہ لے تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسی طرح اپنی آخرت کی دائمی زندگی کو کامیاب بنانے کیلئے بھی اسے مسلسل محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے اور وہ ہے اس کے دو ازلی دشمنوں کے خلاف یعنی نفس امارہ اور شیطان ابلیس، جن کی ہر لمحہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ اسے سیدہی راہ سے بھٹکا دیا جائے اور اسکی متاع دین و دنیا کو برباد کردیا جائے۔
انسان دنیا میں اگر کوئی ایسا کام کرتاہے جو شریعت اور اخلاق کی نظروں میں صحیح نہ ہو تو وہ اسے غلط سمجھ کر نہیں کرتا بلکہ اسے جائز سمجھنے کیلئے اس کے پاس بہت سے طریقے ہیں مثلاً رشوت کو وہ ’’چائے پانی اور اللہ کا فضل‘‘ سمجھ کر وصول کرتا ہے، اور اگر وہ کسی جنس میں ملاوٹ کرتا ہے تو اسے ’’کاروباری ضرورت‘‘ سمجھ کر کرتا ہے، اسی طرح اگر راگ و رنگ، موسیقی و ناچ گانے کا موقعہ ہو تو وہ اس سے’’روح کی غذا اور ثقافت‘‘ سمجھ کر لطف اندوز ہوتا ہے۔اور اگر مذہبی عقائد کی بات کی جائے تو اگر وہ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب و ملت کا پیرو کار ہے تو اسے جائز قرار دینے کی سب سے بڑی جو دلیل جو اس کے پاس ہے وہ یہ ہے کہ اس کے باپ دادا چونکہ اس پر عمل کرتے آئے لہٰذا یہ مذہب صحیح ہے اگر یہ غلط ہوتا تو اس کے آباؤ اجداد اسے اختیار نہ کرتے۔
شیطان انسان کے سب غلط کاموں کو اس کی نظروں میں صحیح کرکے دکھا دیتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’آپ فرمادیجئے (اے نبی پاکﷺ)کہ ہم آپکو ان لوگوں کے بارے میں بتائیں کہ جن کے اعمال نہایت خسارے میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی ساری کوشش دنیاوی زندگی کیلئے ہی ضائع ہو گئی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا پس برباد گیا ان کا کیا ہوا اور ہم روز قیامت انکے لئے کوئی وزن قائم نہ کریں گے‘‘۔(الکھف:۱۰۵)
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ زندگی دو طرح کی ہے جنت کی زندگی اور دوزخ کی زندگی ، جنت کی زندگی کا مل جانا بہت بڑی کامیابی ہے اور دوزخ کی زندگی ایک خوفناک اور دردناک زندگی ہے کہ جہاں انسان موت کی تمنا کرے گا مگر موت نہیں آئے گی۔ جہاں انسان بار بار مرے گا اور پھر جی اٹھے گا عذاب سہنے کیلئے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اسی لئے اس زندگی سے پناہ مانگی گئی ہے۔
لہذا اصل زندگی جسے صحیح معنوں میں زندگی کہا جاسکتا ہے وہ جنت کی زندگی ہے مگر اسے حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نبی پاک ﷺ کے طریقوں پر چل کر اور آپکے اسوۂ حسنہ پر عمل کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے کے لئے انسان کو مسلسل محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ مسلسل اس طرح کہ اگر مقصد کے حصول میں وقتی طور پر ناکامی ہو تو ہمت ہار کر نہیں بیٹھ رہنا چاہیے بلکہ اٹھ کر نئے سرے سے جدوجہد کاآغاز کردینا چاہیئے صرف وہی لوگ منزل پر پہنچ پاتے ہیں جو وقتی ناکامیوں سے گھبرا کر بیٹھ نہیں جاتے اور جدوجہد ترک نہیں کردیتے مسلسل اور سیدھے چلنے والے بالآخر منزل پر
پہنچ ہی جاتے ہیں رفتار چاہے کیسی ہی کیوں نہ ہو

Purity is Half of the Faith

March 28, 2015 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized

images.jpgn

Purity is Half of the Faith

By Mohammad Rafique Etesame
Abu Malik Al-Ashari reported: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said, “Purity is half of faith, and the praise of Allah fills the scale. Glorification and praise fill up what is between the heavens and the earth. Prayer is a light, charity is proof, and patience is illumination. The Quran is a proof for you or against you. All people go out early in the morning and sell themselves, either setting themselves free or destroying themselves.”
Source: Sahih Muslim 223
This hadith throws light on many function of a believer. For example if he purifies his body and cloths from the filth, and also purifies his heart from Hypocrisy, hatred, rancor and malice etc. Then this is half of the faith, and if he recites ‘Subhanallah (Glory be to Allah) for one or more times, then it will fills his scale at the Day of Judgment, and reciting ‘ Subhanallha wal-lhamdu- lillah (Glory be to Allah and all praises be to Allah) fills up the distance between the heavens and the earth. And offering prayers creates light that illuminates the face of the believer, and the charity and paying the poor-due, are the evidence (for a believer’s good character), and patience creates inner peace and tranquility.
Similarly, the holy Qur’an is evidence against or in favor of the believer. It means that if one recites the holy
Qur’an in accurate accent and acts upon its teachings, then it will be in favor of him and will make intermediation for him at the Day of Judgment otherwise the evidence will be against the believer. And the people go out early in the morning and sell themselves, either setting themselves free from the hell-fire by the good deeds or destroying themselves by wrong doing.
May Allah All-mighty Give us power to act upon all His commands.

Al-Ma’un (The Small Kindness)

February 22, 2015 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Uncategorized

images3Verses 1-3 Those who deny the Judgment

God is asking the Prophet Muhammad, did you see these people lying about the religion; denying the judgment? They go about their sinful ways refusing to accept that they will be called to account.  They are recognizable by the way they act.  They are those who drive away the orphans, the most vulnerable of any society.  In essence God is asking us to look around us and see those who deny any sort of judgement or recompense for their behavior.   If you only care about yourself and your position in this world it is easy to push away those that need help.  If you deny the judgement then there is no need to care for those less fortunate.

Not only do those who deny the recompense push away and ignore the poor, they also refuse to encourage or inspire others to help those in need.  They do not encourage feeding the poor.  In the time of the Prophet the leaders of Meccan society trampled on the rights of the poor and desolate.  Today we can see their like in the politicians and leaders of communities who refuse to take care of the most defenceless members of any society.  Looking after the weak, feeding the poor is not something that they encourage and on the Day of Judgement they will be judged harshly.

It is the right of the poor to be fed and looked after by those who have the means to do so.  In this chapter God shows the connection between denial of the recompense and bad behavior.  He also goes further by connecting prayer with behaviour.

Verses 4-7 Those who are heedless in prayer.

Verse four demands our attention.  Woe to those who pray.  The person reading this verse immediately thinks, “Me? Is this referring to me? I pray.” It is referring to those who are heedless in their prayer; those who deliberately delay their prayer or move through the positions of prayer like a chicken plucking at the ground for food, or those who pray whilst wishing that the prayer would be over.  They might execute the prayer but their hearts are hard and do not open up to the essence and purpose of prayer.  There are some people who pray only because it is an obligation; otherwise it would have no place in their hearts or their lives.

This admonition does not include those who fall short in their prayer but nevertheless struggle to keep their thoughts focused.   Nor does it include those who are forgetful or plagued by whisperings.  It includes those who deny their own need for prayer and those who would do anything rather than rise up to pray when the call is given.

These people are also recognisable by their behaviour.  They make a show of their religious obligations but refuse to help others.  They want others to view them as good religious people but are careless about how God views them.   They resist showing even the smallest kindness to others.  Their prayers have not affected their hearts or behaviour.  Their hearts are hard.  In this chapter God is telling us the two things that will soften our hearts; prayer and charity.  These two things are intertwined.

This chapter talks about crimes against people and crimes against God.  If a person refuses to acknowledge that it is the right of the poor and the needy to be helped, then it stands to reason that he also refuses to give God His rights, specifically the right to be worshipped.  People who fit this description are so self-centred that they refuse to do even the smallest acts of kindness, things that you would not miss or even think about again such as a smile, a cup of coffee or a few coins.

Our actions have consequences and the most important of consequences will become clear on the Day of Judgment.  God is telling us clearly how to avoid a disastrous outcome on that fateful Day.

From The Religion Of Islam with thanks.