Islamicinfo.com

Islamic Information Islam religion Information-Islamic Belief and Islamic Current Affairs
Subscribe

Seeking of a Good Friend

February 28, 2011 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

ایک اچھے دوست کی تلاش
محمدرفیق اعتصامی
دوست انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے کہ جسکے بغیر اسکی زندگی ادھوری ہے اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شے کو دو اکائیوں میں
تقسیم کردیا جائے تو دوسری اکائی اسکا دوست ہے یعنی دوست کے بغیر اسکا وجود آدھا ہے اور آدھا بذات خود کسی تعریف میں نہیں آتا جب تک کہ اسکا دوسرا حصہ بھی اسکے ساتھ نہ ملے۔ یہی وجہ ہے کہ دوست کے بغیر جینے کا لطف نہیں آتا ہر سو تنہائی اور ویرانی کا احساس ہوتا ہے یوں لگتا ہے جیسے کوئی قیمتی چیز کھو گئی ہے اسی لئے انسان فطری طور پر ایک ایسے دوست کی تلاش میں رہتا ہے جو مخلص ہو، با وفا ہو،غمگسار ہو ،جسکی محبت بے لوث ہو، جس میں اپنائیت و چاہت ہو اور جو دوست کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار رہتا ہو۔ اور اگر خوش قسمتی سے کوئی ایسا دوست مل جائے تو پھر زندگی کے چمن میں اک بہار آجاتی ہے کلیاں چٹکتی ہیں، پھول کھلتے ہیں اور ہر سو ہریالی اور رنگینی کا احساس ہو تا ہے گویا قوس و قزح کے رنگ فضاؤں میں بکھر گئے ہیں اور دنیا جہان کی نعمتیں ہاتھ آ گئی ہیں۔مشہور صوفی شاعر میاں محمد بخش کا ایک شعر ہے………
توں بیلی تے سب جگ بیلی ہر بیلی وی بیلی
سجناں باجھ محمد بخشا سنجی پئی حویلی
یعنی اے خدا اگر تو دوست ہے تو پھر سارا جہان ہی دوست ہے اور اے محمد بخش!دوست کے بغیر تو گھربار ویران ہے سوال یہ ہے کہ کیا اس گئے گزرے دور میں ایک سچے اور مخلص دوست کا ملنا ممکن ہے؟ کیونکہ فی زمانہ ایسے مخلص یار دوست نہیں ملتے بلکہ یار مار ہی ملتے ہیں جو دوستی کے پردے میں دوست کی جڑیں کاٹتے اور اپنا مطلب نکالتے ہیں مگر اس نفسا نفسی اور خود غرضی کے عالم میں انسان کاایک سچا دوست بھی ہے جو ہر گھڑی اس کے ساتھ رہتا ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر اپنے دوستوں کی مدد کرتا اور ان کی خیر خواہی میں مصروف رہتا ہے، جو طاقتور ہے، با اختیارہے،اپنے حکم کو نافذ کرنا خوب جانتا ہے اور اس میں ایک مخلص اوربا وفا دوست کی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں جنہیں بیان کرنے کی طاقت قلم میں نہیں اس انتہائی سچے اور مہربان دوست کو خدا کہتے ہیں جی ہاں! خدا واقعی انسان کا دوست ہے۔چنانچہ ارشاد فرمایا(ترجمہ) خدا دوست ہے مسلمانوں کا جو انہیں(کفر کے) اندہیروں سے نور (ہدائت) کی طرف لاتا ہے(الانفال پ۹)ایک اور جگہ فرمایا(ترجمہ) کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کار ساز بنائے ہیں؟ (در حقیقت تو ) اللہ تعالیٰ ہی دوست ہے وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے(الشورٰی پ۵۲)
ان آیات کریمہ سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ انسان کا حقیقی دوست ہے۔
سوال یہ ہے کہ دوست کسے کہتے او ر دوستی کی حد کہاں تک ہے؟ تو عرض ہے کہ دوست وہ ہے جو یہ کہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا نہیں بلکہ میرے دوست کا ہے اور دوستی کی حد عقل اور شریعت کے دائرے کے اندر ہے لہٰذا دوستی ان معنوں میں شمار ہوتی ہے کہ دوست کی ملکیت میں جو جو چیزیں ہیں ان میں سے کوئی ایک چیز یا ساری چیزیں اگر اسکا دوست طلب کرے تو دوسرا دوست فوراً بلا کم و کاست وہ چیزیں اپنے دوست کے حوالے کر دے اور اپنے دل میں اسکا کوئی ملال یا خیال تک نہ لائے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں اس کی مثال خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ کی ہے کہ جب ان سے انکے دوست حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوہ خندق کے موقعہ پر کچھ طلب کیا تو وہ گھر کا سارا سازو سامان اٹھا لائے۔ جب سرور عالمﷺ نے ان سے پوچھ کہ میاں! گھر کی ضروریات کیلئے بھی کچھ بچا کہ رکھا ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ گھر میں اللہ اور اسکے رسولﷺ کو چھوڑ آیا ہوں۔ یہ تو صحابہ کرام کی مثا ل ہے سوال یہ ہے کہ جب خدا انسان کا دوست ہے تو ایک عام شخص بحثیت خدا کا دوست اسے کیا دے سکتا ہے اور خدا انسان کا دوست ہونے کے ناطے اسے کیا دے سکتا ہے؟
اسکا جواب یہ ہے کہ خدا نے انسان کو جو کچھ دیا ہے اور جو کچھ دے سکتا ہے اسے شمار نہں کیا جاسکتا کیونکہ اس نے خود ہی فرمایا ہے ’’اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ہرگز شمار نہ کر سکو گے‘‘(القرآن) یعنی اسکے لطف وکرم اور جود و عطا کے خزانے لامتناہی ولا محدود ہیں مگر اس نے ’’کچھ لو اور کچھ دو ’’ کی بنیاد پر انسان سے ایک سودا بھی کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ تمھاری ملکیت میں سب سے پیاری چیز ہے وہ مجھے دیدو اور جو کچھ میرے پاس تمھارے لئے اچھی چیز ہے وہ میں تمھیں دیتا ہوں مگر اس سودے میں ایک خاص بات جو عام تجارتی اصولوں سے ہٹ کر ہے وہ یہ ہے کہ جیسے تجارتی منڈی میں مال کے مطابق قیمت لگتی ہے کہ جیسا مال ویسا بھاؤ! مگر اس میں ایسا نہیں ایک تو یہ کہ” مال ” بھی سوداگر نے پہلے سے دے رکھا ہے اور پھر خود ہی اسکا خریدار بھی ہے اور دوسرے یہ کہ مال کی قیمت بھی بہت زیادہ لگائی گئی ہے جو کہ بیچنے والے کی توقع سے بہت بڑھ کر ہے ہے چنانچہ فرمایا ’’ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے انکی جانوں کو اورانکے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ انھیں جنت ملے گی۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل کرتے ہیں اور شہید کئے جاتے ہیں اس پر اللہ کاسچا وعدہ کیا گیاہے توراۃ میں انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کو ن پورا کرے والا ہے، تو تم لوگ اس بیع پرجس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے‘‘(التوبہ پ ۱۱)
اس سودے کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ جان و مال کے بدلہ میں جنت!! گویا……
جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

لہذا اس عظیم دوست کو حاصل کرنے کیلئے پہلے کچھ دینا پڑتا ہے جو دوستی کے اسی اصو ل کی بنیاد پر ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا نہیں بلکہ میرے دوست کا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسے اچھا دوست نہ ملنے کی شکائت ہے وہ خود ہی اچھا دوست نہیں۔سوال یہ ہے کہ اس عظیم دوست سے کیسے رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے اور کیسے اس سے ملاقات ہو سکتی ہے کیوں کہ وہ نظر تو آتا نہیں اور نہ ہی اسے محسوس کیا جاسکتا ہے؟ تو اس نے خود ہی قرآن پاک میں اسکا طریقہ بتلا دیا ہے چنانچہ فرمایا(ترجمہ) اے نبی اکرم صلعم! جب آپ سے میرے بندے میرے بارہ میں سوال کریں کہ(میں کہاں ہوں) تو میں تو ان کے قریب ہوں جواب دیتا ہوں پکارنے والے کی پکار کا جب بھی وہ مجھے پکارے۔ پس انہیں بھی چاہئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ فلاح پائیں۔(البقرہ)
یعنی اس دوست سے ملاقات کرنے کیلئے صرف ایک بار اسے دل کی گہرائیوں سے پکارنا ضروری ہے پھر جواب دینا اور مدد کرنا اس کاکام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دوست کے علاوہ دنیا میں نہ کہیں اورجائے پناہ ہے اور نہ کہیں امان مل سکتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان سب جگہ سے منہ موڑ کر صرف اسی ایک دوست سے دوستی لگا لے اور اسی کا ہو جائے بقول اقبال……..
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفو بندہ نواز میں

Great Sahabi R.A.)

February 21, 2011 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Dimensions of belief

Abdullah Ibn Umm Maktum

Scanned from: “Companions of The Prophet”, Vol. 1, By: Abdul Wahid Hamid.

Abdullah ibn Umm Maktum was a cousin of Khadijah bint Khuwaylid, Mother of the Believers, may God be pleased with her. His father was Qays ibn Za’id and his mother was Aatikah bint Abdullah. She was called Umm Maktum (Mother of the Concealed One) because she gave birth to a blind child.

Abdullah witnessed the rise of Islam in Makkah. He was amongst the first to accept Islam. He lived through the persecution of the Muslims and suffered what the other companions of the Prophet experienced. His attitude, like theirs, was one of firmness, staunch resistance and sacrifice. Neither his dedication nor his faith weakened against the violence of the Quraysh onslaught. In fact, all this only increased his determination to hold on to the religion of God and his devotion to His messenger.

Abdullah was devoted to the noble Prophet and he was so eager to memorize the Qur’an that he would not miss any opportunity to achieve his heart’s desire. Indeed, his sense of urgency and his insistence could sometimes have been irritating as he, unintentionally, sought to monopolize the attention of the Prophet.

In this period, the Prophet, peace be upon him, was concentrating on the Quraysh notables and was eager that they should become Muslims. On one particular day, he met Utbah ibn Rabiah and his brother Shaybah, Amr ibn Hisham better known as Abu Jahl, Umayyah ibn Khalaf and Walid ibn Mughirah, the father of Khalid ibn Walid who was later to be known as Sayf Allah or ‘the sword of God’. He had begun talking and negotiating with them and telling them about Islam. He so much wished that they would respond positively to him and accept Islam or at least call off their persecution of his companions.

While he was thus engaged, Abdullah ibn Umm Maktum came up and asked him to read a verse from the Qur’an.
“O messenger of God,” he said, “teach me from what God has taught you.” The Prophet frowned and turned away from him. He turned his attention instead to the prestigious group of Quraysh, hoping that they would become Muslims and that by their acceptance of Islam they would bring greatness to the religion of God and strengthen his mission. As soon as he had finished speaking to them and had left their company, he suddenly felt partially blinded and his head began to throb violently. At this point the following revelation came to him:

“He frowned and turned away when the blind man approached him! Yet for all you knew, (O Muhammad), he might perhaps have grown in purity or have been reminded of the Truth, and helped by this reminder. Now as for him who believes himself to be self-sufficientرto him you gave your whole attention, although you are not accountable for his failure to attain to purity. But as for him who came unto you full of eagerness and in awe of God, him did you disregard.
Nay, verily, this is but a reminder and so, whoever is willing may remember Him in the light of His revelations blest with dignity, lofty and pure, borne by the hands of messengers, noble and most virtuous.”

(Surah Abasa 80: 116).

These are the sixteen verses which were revealed to the noble Prophet about Abdullah ibn Umm Maktumرsixteen verses that have continued to be recited from that time till today and shall continue to be recited.
From that day the Prophet did not cease to be generous to Abdullah ibn Umm Maktum, to ask him about his affairs, to fulfil his needs and take him into his council whenever he approached. This is not strange. Was he not censured by God in a most severe manner on Abdullah’s account? In fact, in later years, he often greeted Ibn Umm Maktum with these words of humility:

“Welcome unto him on whose account my Sustainer has rebuked me.”

When the Quraysh intensified their persecution of the Prophet and those who believed with him, God gave them permission to emigrate. Abdullah’s response was prompt. He ana Mus’ab ibn Umayr were the first of the Companions to reach Madinah.

As soon as they reached Yathrib, he and Mus’ab began discussing with the people, reading the Qur’an to them and teaching them the religion of God. When the Prophet, upon whom be peace; arrived in Madinah, he appointed Abdullah and Bilal ibn Rabah to be muadh-dhins for the Muslims, proclaiming the Oneness of God five times a day, calling man to the best of actions and summoning them to success.

Bilal would call the adhan and Abdullah would pronounce the iqamah for the Prayer. Sometimes they would reverse the process. During Ramadan, they adopted a special routine. One of them would call the adhan to wake people up to eat before the fast began.
The other would call the adhan to announce the beginning of dawn and the fast. It was Bilal who would awaken the people and Abdullah ibn Umm Maktum who would announce the beginning of dawn.
One of the responsibilities that the Prophet placed on Abdullah ibn Umm Maktum was to put him in charge of Madinah in his absence. This was done more than ten times, one of them being when he left for the liberation of Makkah.

Sasn after the battle of Badr, the Prophet received a revelation from God raising the status of the mujahideen and preferring them over the qa’ideen (those who remain inactive at home). This was in order to encourage the mujahid even further and to spur the qa’id to give up his inactivity. This revelation affected ibn Umm Maktum deeply. It pained him to be thus barred from the higher status and he said:

“O messenger of God. If I could go on jihad, I would certainly do.” He then earnestly asked God to send down a revelation about his particular case and those like him who were prevented because of their disabilities from going on military campaigns.

His prayer was answered. An additional phrase was revealed to the Prophet exempting those with disabilities from the import of the original verse. The full ayah became:

“Not equal are those who remain seated among the believers except those who possess disabilitiesرand those who strive and fight in the way of God with their wealth and their persons . . .”
(Surah an-Nisaa, 4: 95).

In spite of thus being excused from jihad, the soul of Abdullah ibn Umm Maktum refused to be content with staying among those who remained at home when an expedition was in progress. Great souls are not content with remaining detached from affairs of great moment. He determined that no campaign should by-pass him. He fixed a role for himself on the battle field. He would say: “Place me between two rows and give me the standard. I will carry it for you and protect it, for I am blind and cannot run away.”

In the fourteenth year after the hijrah, Umar resolved to mount a major assault against the Persians to bring down their State and open the way for the Muslim forces. So he wrote to his governors:
“Send anyone with a weapon or a horse or who can offer any form of help to me. And make haste.”

Crowds of Muslims from every direction responded to Umar’s call and converged on Madinah. Among all these was the blind mujahid, Abdullah ibn Umm Maktum.

Umar appointed Sa’d ibn Abi Waqqas commander over the army, gave him instructions and bade him farewell. When the army reached Qadisiyyah, Abdullah ibn Umm Maktum was prominent, wearing a coat of armour and fully prepared. He had vowed to carry and protect the standard of the Muslims or be killed in the process.

The forces met and engaged in battle for three days. The fighting was among the most fierce and bitter in the history of the Muslim conquests. On the third day, the Muslims achieved a mighty victory as one of the greatest empires in the world collapsed and one of the most secure thrones fell. The standard of Tawhid was raised in an idolatrous land. The price of this clear victory was hundreds of martyrs. Among them was Abdullah ibn Umm Maktum. He was found dead on the battlefield clutching the flag of the Muslims.

Hazrat Muhammad(Peace be Upon Him)

February 16, 2011 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

رحمتہ ا للعٰلمین
ارشاد باری تعالیٰ ہے(ترجمہ) ا ے ایمان والو!آگے نہ بڑھو اللہ اور اسکے رسولﷺ سے اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ سننے والے اور جاننے والے ہیں اے ایمان والو اپنی آوازوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے اونچا مت کرو اور نہ اس طرح اونچی آواز سے بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے تمام اچھے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں اسکی خبر بھی نہ ہو(الحجرات)
ان آیات کریمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپکے مرتبہ و مقام کو بیان کیا گیا ہے یعنی آنحضرت ﷺ مجلس میں تشریف فرما ہیں صحابہ کرام بیٹھے ہوئے ہیں ایسے میں اگر کسی صحابی کی آواز آپکی آواز سے اونچی ہوگئی یعنی اس نے دیدو ودانستہ اپنے ساتھ والے ساتھی سے اونچی آواز اور بے تکلفی کے ساتھ بات کرلی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اسکے تما م اچھے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور اسے اسکی خبر بھی نہ ہوگی۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کو آنحضرت ﷺ کے بارہ میں اتنی بات بھی پسند نہیں کہ اپنی آواز کو آپ کی آواز سے اونچا کیا جائے گویا یہ بھی ایک قسم کی گستاخی شمار ہوتی ہے۔
اہل سنت والجماعت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد جو کائنات میں سب سے زیادہ محترم و معزز ہستی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مقدس ہے کہ…………
یا صاحب الجمال و یا سید البشر۔۔۔۔من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کم کان حقہ۔۔۔۔۔بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا ہوہی نہیں سکتا جب تک کہ میں اسکو اسکی اولاد، والدین اور تمام جہان والوں سے زیادہ پیارہ نہ ہوجاؤں (صحیح بخاری) یعنی سب لوگوں سے زیادہ آپکی ذات محترم سے محبت ایمان کا جزو ہے۔ فرمان الٰہی ہے کہ نبی اکرم صلعم تمہاری جانوں سے زیادہ حقدار ہیں(القرآن)یعنی اگر آنحضرت ﷺ کسی امتی کو اللہ کے راستے میں جان کی بازی لگانے کا حکم دیں تو جان قربان کرنا فرض ہو جاتا ہے۔حضرت حسان بن ثابت صحابی رسول آپکی شان میں مدح سرا ہیں……….
و احسن منک لم تر قط عینی۔۔۔۔واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا ء من کل عیب۔۔۔کانک قد خلقت کما تشاء
یعنی آپ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے آجتک نہیں دیکھا ،اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی ماں نے آجتک نہیں جنا، آپ ہرعیب سے کلی طور پرپاک پیدا کئے گئے، گویا کہ جیسا آپ چاہتے تھے ویسے ہی پیدا کئے گئے۔شیخ سعدی شیرازی رقمطراز ہیں……..
بلغ العلی بکمالہ ۔۔۔۔۔کشف الدجی بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ۔۔۔صلوا علیہ و آلہ
یعنی آپ بلندیوں پراپنے کمالات کی وجہ سے ،اندھیرے دور ہوگئے آپ کے حسن وجمال کی وجہ سے، آپ کے تمام خصائل حمیدہ بہترین ہیں،پس اے ایمان والو! آپ پراو ر آپ کی آل پردرود و سلام کے تحفے ارسال کرو۔یہ چند الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی منقبت میں تحریر کئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ زبان و قلم میں اتنی طاقت ہرگز نہیں کہ وہ آپ کی شان کو بیان کرسکیں اللہ تعالی ہی آپ کی شان کو بہتر طو رپر جانتے ہیں لہٗذاضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لوگ آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرنے والے اورآپکے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے والے بن جائیں۔

Four Principles for a Noble Character

February 08, 2011 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles


It is not imagined that one can have noble character except if it is founded upon four pillars:

The First: Sabr (Patience)
The Second: ‘Iffah (Chastity)
The Third: Shujaa’ah (Courage)
The Fourth: ‘Adl (Justice)

Patience inspires him to be tolerant, control his anger, endure the harms that he receives from others, to be forbearing and deliberate in his decisions. It motivates him to be gentle and not to be rash or hasty.

Chastity inspires him to avoid every imprudent characteristic, whether in statement or action, and encourages him to have a sense of modesty and integrity which is the epitome of all good. It prevents him from fornication, stinginess, lying, backbiting and spreading tales to cause separation and discord between the people.

Courage inspires him to have a sense of self esteem, to emphasize high and noble manners and to make it apart of his natural disposition. It also encourages him to exert himself and to be generous, which is in essence, true courage and it leads to strong will and self determination. It encourages him to distance himself from his ardent lowly desires, to control his anger, and to be forbearing because by such, he can control his temper, take it by the reins and curb his violent and destructive behavior just as the Messenger (salla Allahu ‘alaihi wa sallam) said:

“The Strong is not the one who can wrestle his opponent to the ground but rather the strong is the one who can control himself when he gets angry.” [Agreed upon]

«ليس الشديد بالصرعة ، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب» متفق عليه

This is true genuine courage and it is the sole trait that the slave utilizes to conquer his opponent.

Justice encourages him to be impartial in his behavior with people and to be moderate between the two extremes of negligence and extremism. It motivates him to be generous and kind; which is the middle course between absolute degradation and arrogance, and to make this a part of his disposition and makeup. It encourages him to be courageous; which is the middle course between cowardice and imprudence, and to be forbearing; which is the middle course between extreme unnecessary anger and ignominy.

These four virtuous characteristics are the axis and provenance of all noble manners and the foundation of all repugnant and ignominious characteristics are built upon four pillars:

The First: Jahl (Ignorance)
The Second: Dhulm (Oppression)
The Third: Shahwah (following ones lowly desires)
The Fourth: Ghadab (Anger)

Ignorance allows him to view good in the form of evil and evil in the form of good, and to consider that which is complete to be incomplete and that which is incomplete to be complete.

Oppression causes him to put things in places which are not appropriate for them, so he gets angry when it’s time to be happy and he is happy when it’s time to be angry. He is ignorant and hasty when it’s time to be deliberate and deliberate when it’s time to be hasty, he is stingy when it is time to be generous and generous when it’s time to be stingy. He is weak when it is time to be courageous and assume responsibility, and he assumes responsibility when it is time to take a step back (and let someone else undertake the initiative). He is gentle and lenient when it is time to be harsh and firm and he is harsh and firm when it is time to be lenient. He is humble when it is time to be superior and arrogant when it is time to be humble.

Following (his) lowly desires encourages him to be diligent in obtaining that which the soul ardently desires, to be stingy and greedy. It encourages him to adorn himself with all types of despicable and imprudent characteristics.

Anger incites him to be arrogant, jealous, envious, to hold enmity of others and to be imprudent and shameless.

The foundation of these four repugnant and blameworthy characteristics; are two pillars:

Either extreme self ignominy,
Or extreme self pride.

Translator: Shadeed Muhammad, Abu Az-Zubayr
Reference: Madaarij ul Salikeen: Vol 2, P 308.

(From” IslamWay Radio” with thanks)