Islamicinfo.com

Islamic Information Islam religion Information-Islamic Belief and Islamic Current Affairs
Subscribe

Way to Paradise

May 28, 2011 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles, Uncategorized

>

جنت میں جانے کا راستہ

محمد رفیق اعتصامی

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس شخص نے کسی موٗمن مسلمان شخص کی کسی دنیاوی تکلیف کو دور کیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے بدلہ میں اسکی آخرت کی تکالیف میں سے کسی تکلیف کو دور فرمائیں گے اور جو شخص کسی مسلمان بھائی کی کسی مشکل کو آسان کرے تو اسکے بدلہ میں اللہ تبارگا تو اسکے بدلہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ آخرت میں اسکے گناہوں سے پردہ پوشی فرمائیں گے، اور اللہ برابر اس شخص کی مدد میں لگے رہتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، اور جو شخص دینی علوم کی طلب میں کسی راستے پر چلا تو اسکے بدلہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ اسکے لئے جنت میں جانے کے راستہ کو آسان بنا دیتے ہیں، اور جب کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر(مسجد) میں جمع ہو کرقرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے اور آپس میں قرآن سیکھنے سکھانے کا عمل کرتی ہے تو اللہ کی رحمت انھیں گھیر لیتی ہے اور فرشتے انھیں ڈہانپ لیتے ہیں، اور اللہ تبارک وتعالیٰ ان بندوں کا ذکر اپنے پاس والے فرشتوں سے کرتے ہیں جو اس مسجد میں موجود ہوتے ہیں، اور جو شخص اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرے تو روز قیامت اسے دینی لحاظ سے اعلیٰ حسب و نسب کوئی فائدہ نہ دے گا ۔ او کما قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم۔(رواہ مسلم)

اس حدیث پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے دوسرے مسلمان بھائی کی مدد کرنے، اسکی تکالیف کو دور کرنے اور اسکی پردہ پوشی کرنے کی تلقین فرمائی ہے ااور کہ خوش خبری سنائی ہے کہ اسکے بدلہ میں آخرت میں اس شخص کی پردہ پوشی اورمدد کی جائے گی اور اس طرح اس شخص کیلئے جنت میں جانے کا راستہ آسان ہو جائے گا اور یہی خوش خبری دینی علوم کے حصول کیلئے جانے والوں کیلئے بھی ہے۔سبحان اللہ ! کتنا بڑا اجر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا،انکی تکالیف کو دور کرنا،انکی غلطیوں سے چشم پوشی کرنا،مسجد میں جانا اور تلاوت کلام پاک کرنا ،یہ تمام طریقے اور راستے انسان کو جنت میں لے جانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

لعنت کرنے سے بچنا چاہئے

May 14, 2011 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

لعنت کرنے سے بچنا چاہئے
محمد رفیق اعتصامی
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی ہے اور اللہ نے بھی ان پر لعنت کی ہے اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے پہلا شخص وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن پاک میں زیادتی کرے(یعنی اس میں کوئی حرف بڑھادے یا کسی سطر کا اضافہ کر دے یا زبر زیر میں کمی بیشی کردے وغیرہ)، دوسرا وہ شخص جو تقدیر الٰہی کو جھٹلائے(یعنی یہ کہے کہ میں تقدیر کو نہیں مانتایا تقدیر کوئی چیز نہیں) اور تیسرا وہ شخص جو ظلم وجبر کے ساتھ کسی قوم پر غلبہ حاصل کرے تاکہ وہاں کے معزز لوگوں کو ذلیل کرے اور ذلیل لوگوں کو عزت دے ،اور چوتھا وہ شخص جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی حرام کردو چیزوں حلال کرنا چاہے اورپانچواں وہ شخص جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو (یعنی جو شریعت مطہرہ میں حرام کی گئی ہیں ) انھیں حلال سمجھے، اور چھٹا وہ شخص جو میری سنتوں کا تارک ہو(یعنی دین پر چلنے کیلئے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیا ر کرے)او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم(رواہ البیہقی فی المدخل)
علماء کرام کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان پر چڑہتی ہے پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس لعنت کا کوئی مستحق آسمان میں کوئی ہے یا وہ شخص جس پر لعنت کی گئی ہے اگر در حقیقت اس لعنت کا مستحق کوئی بھی نہیں تو وہ لعنت واپس لوٹ کر اسی شخص پر پڑتی ہے جس نے لعنت کی ہے ۔ لہٰذا کسی کو لعنت

کرنے یا بددعا دینے سے بچنا چاہیئے کہ اسی میں بھلائی ہے

دلوں کا زنگ

محمد رفیق اعتصامی

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب کوئی مؤمن کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اسکی وجہ سے اسکے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پھر اگر اس نے توبہ کی اور اصلاح کی جانب مائل ہوا تو اس نقطہ کو رگڑ کر صاف کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ گناہوں میں بڑہتا ہی رہے اور باز نہ آئے تو وہ نقطہ بھی بڑا ہوتا جاتا ہے حتی کہ اس کے پورے دل کو ڈہانپ لیتا ہے(یعنی سارادل گناہوں کی وجہ سے سیاہ ہوجاتاہے) آپﷺ نے فرمایا کہ یہی دلوں کا زنگ ہے جس کے بارہ میں ارشاد باری تعالی ہے(مفہوم)کہ یہی وہ (دلوں کا)زنگ ہے جو انکی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے(پارہ ۳۰) رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہواکہ ایک مومن آدمی کا دل گناہوں کی نحوست سے سیاہ ہو جاتا ہے اور اسے زنگ لگ جاتا ہے اور گناہوں کی اس سیاہی کو دہونے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے حضور سچی توبہ کی جائے اور دوبارہ ان گناہوں کو نہ کرنے کا عہد کیاجائے اگر ایسا کیا جائے گا تو پھر گناہوں کی اس سیاہی اور دل کے زنگ کو رگڑ کر صاف کر دیا جائے گا اوراگر دل میں یہ خیال ہو کہ میں نے یہ گناہ کیاہ ہے تو کونسی بڑی بات ہے اور لوگ بھی تو ایساکر رہے ہیں تو اس طرح پھر توبہ کی توفیق نہ ملے گی اوردل گناہوں کی سیاہی سے زنگ آلود ہوتا چلا جائے گا لہٗذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دلوں کے زنگ کو صاف کیا جائے اور اپنی خطاؤں پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کیاجائے اور دوبارہ انہیں نہ کرنے کا عہد کیا جائے صرف اس طریقہ سے ہی دل کے آئینہ کو صاف کیا جاسکتا ہے۔