Islamicinfo.com

Islamic Information Islam religion Information-Islamic Belief and Islamic Current Affairs
Subscribe

Hazrat Mohammad (PBUH) ke Husn-o-Jamal ka ziker

January 29, 2013 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Dimensions of belief

یوم حساب اور خفیہ گواہی

January 29, 2013 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles


محمد رفیق اعتصامی
ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ)’’اپنی کتاب (نامہ اعمال) کو پڑھو آج تم اپنا حساب کرنے کیلئے خود ہی کافی ہو‘‘۔ اور فرمایا تم پر نگہبان مقرر ہیں عزت والے لکھنے والے جانتے ہیں وہ جو تم کرتے ہو۔‘‘(القرآن) ان آیات کریمہ سے معلوم ہواکہ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہیں جو اسکی ہر بات اور ہر حرکت نوٹ کر رہے ہیں مثلاً آج اس شخص نے کیا کام کئے؟ مال حلال طریقے سے کمایا یا حرام طریقے سے، کسی کو گالی دی غیبت کی، چوری کی،ڈاکہ ڈالا،یا کوئی غلط کاری کی ، یا آج اس نے نماز پڑہی، قرآن پاک کی تلاوت کی یا ذکر و اذکار کیا وغیرہم۔غرض چوبیس گھنٹے میںآدمی جو جو اعمال کرتا ہے وہ سب احاطہء تحریر میں لائے جارہے ہیں اور ایک ایسا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے کہ جس کی صداقت پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں،یہ نامہ اعمال جب انسان کو دیا جائے گا تو اسکے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور وہ بے ساختہ کہے گا کہ……
’’یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا عمل بغیر گھیرے کے نہیں چھوڑا اور جو کچھ انھوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا ر ب کسی پر ظلم نہیں کرے گا‘‘ (القرآن)
در اصل اس دنیا کا نظام ایسا بنایا گیا ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ یہاں جو کچھ بھی کرے گا اسے کوئی دیکھنے والا نہیں اور وہ آزاد ہے لہٰذا وہ پوشیدہ طور پر ایسی ایسی غلط کاریاں کرتا ہے کہ جنکی اجازت نہ تو کوئی مذہب دیتا ہے اور نہ ضابطہ اخلاق۔ مگر ازروئے شرع یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے اعمال کو دیکھنے والے اور انھیں ریکارڈ میں رکھنے والے ایسے ایسے گواہ ہیں جو نظر نہیں آتے اور اسکے وہم و گمان سے بھی بالاتر ہیں اور اسے یہ یقین نہیںآتا کہ یہ بھی میرے خلاف گواہی دیں گے۔
مثلاً کراماً کاتبین جو انسان کے ہر عمل پر گواہ ہیں اور وہ جو کچھ دیکھتے ہیں اسکی تحریری گواہی اسکے نامہ اعمال میں درج کر دیتے ہیں علاوہ ازیں انسان کے اپنے ہا تھ پاوٗں اسکے خلاف گواہی دیں گے اور زمین بھی انسان کے جملہ اعمال کا ایک مصدقہ ریکارڈمحفوظ کر رہی ہے جسکی تفصیل کچھ اس طرح ہے:۔
روز قیامت جس انسان کو اسکا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو یہ اس بات کی نشانی ہو گی کہ یہ شخص ناکام ہو چکا ہے اور یہ نامہ اعمال گویا ایک ’’فرد جرم‘‘کی حیثیت رکھتا ہے جو اسپر لاگو ہو چکی ہے اور عنقریب اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تو ایسے میں وہ اس فرد جرم سے انکار کر دے گا اور کہے گا کہ میں نے وہ گناہ کئے ہی نہیں جو اس نامہ اعمال میں درج ہیں۔ پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اگر تمھارے مبیّنہ جرائم پر گواہ پیش کر دیئے جائیں تو اپنا جرم تسلیم کرو گے؟ تو وہ ادہر ادہر دیکھے گا اور دل میں کہے گا کہ کونسے گواہ ہیں؟ کیوں کہ میں نے جو کام کئے ہیں وہ چھپ چھپا کر کئے ہیں کوئی انھیں دیکھنے والا نہ تھا اور نہ کوئی موقعے کا گواہ موجود تھا پھر گواہ کہاں سے آیءں گے؟تو وہ بلا دھڑک کہے گا کہ ٹھیک ہے اگر کوئی گواہ ہے تو سامنے لایا جائے۔
تو اس کی زبان پر مہر لگا دی جائے گی پھر اسکے ہاتھ پاؤں اسکے خلاف گواہی دیں گے۔جس کا ذکر قرآن پاک میں اس طرح آتا ہے’’ جس دن مہر لگا دیں گے ہم انکے مونہوں پر اور بات کریں گے ہم سے انکے ہاتھ اور گواہی دیں گے انکے پاؤں وہ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے‘‘(یٰسین:پ:۲۳)
جب یہ گواہی مکمل ہو جائے گی تو وہ اپنے ہاتھ پاؤں سے خطاب کرے گا کہ میں نے تو تمہیں ہی بچانے کیلئے جھوٹ بولا تھا مگر تم نے میرے خلاف ہی گواہی دے دی ۔ تو وہ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قوت گویائی عطا فرمائی تو ہم نے بات کی۔
اور زمین کی گواہی کے بارہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’جس دن وہ(زمین ) اپنی خبریں بیان کرے گی‘‘(الزلزال:پ:۳۰) تفسیر میں لکھا ہے کہ زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر شخص کے بارہ میں بتائے گی کہ یہ شخص شب و روز کیا کیا کرتا تھا، کہاں کہاں جایا کرتا تھا، اور اسکے کیا معمولات تھے وغیرہ۔گویا انسان کی ہر حرکت زمین کے سینے میں محفوظ ہو رہی ہے بالکل اسی طرح جیسے آجکل سی ڈیز میں ہر قسم کا ریکارڈ محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
یہ سب گواہ پیش کرنے کے بعد شاہی فرمان جاری ہوگا کہ ’’ بتاؤ تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ، آج تم اپنا حساب خود ہی کر کے اپنا مقام متعین کرو کہ تمہیں کہاں بھیجا جائے تم تو کہتے تھے کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا مگر یہ ’’سی آئی ڈی‘‘ والے بتا رہے ہیں کہ تم واقعی مجرم ہو ، تم یہ سمجھتے تھے کہ جو بھی سیاہ و سفید کرو آزاد ہو اور کوئی تمہیں دیکھنے والا نہیں؟مگر ایسا نہ تھا بلکہ خفیہ گواہ برابر تمہاری رپورٹ تیار کرنے میں لگے ہوئے تھے اور آج وہ وقت آگیا ہے جب تم اپنے کیے کی سزا بھگتوگے۔
سوال یہ ہے کہ اپنے اعمال کا اس وقت حساب کرنا اسے کیا نفع دے گا جب وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہو گا؟ جبکہ اپنا حساب کرنے کا وقت آج ہے آج اگر انسان اس یوم حساب کو سامنے رکھ کراپنا احتساب شروع کر دے تو وہ اپنی کمی کوتاہی کو دور کر سکتا ہے اور اپنے نامہ اعمال کو مالک حقیقی کی رضامندی والے کاموں سے بھر کہ ندامت و شرمندگی سے بچ سکتا ہے۔ اسی لئے بزرگوں نے کہا ہے کہ رات کو سونے سے پہلے آدمی دس منٹ اس کام کیلئے مخصوص کردے کہ آج میں کیا کچھ صحیح یا غلط کیا اور مجھے کیا کرنا چاہئے تھا تو اس کی زندگی سنور سکتی ہے۔

Right of Divorce for women

January 10, 2013 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

 

By Mohammad Rafiqu Etesame

Some people see the Islamic law of divorce by a different point of view. They are of the opinion that the wife should also divorce to her husband according to the need of time as her husband can divorce her.

The Question arises: who should, actually enjoy the right of divorce both wife or husband? In the first position, if both the spouses enjoy the right of divorce, then the ratio of divorce will be increase . And it will play havoc with the family system. For example, we see in the Western countries, where divorce is excessively given, marriage is as a joke there. Whenever one of the spouses wants, he/she divorces the second one. Often it so happens that when the husband returns home from his daily work, he finds his wife missing and a notice of divorce placed on the table. Some times its subject is as:-

“My Dear! I divorce you and I feels no sorry over it  Because I don’t like you at all. Now I have chosen another partner for life and we are going to court for marriage. So, by the golden memories of the gone days….by by!!”

To avoid such irregularities and to make the family system safe and sound, Islam awards right of divorce only to the husbands. Almighty Allah Says in the Holy Qur’an, “If ye divorce them before ye have touched them and ye have appointed unto them a portion, then (pay the) half of that which ye appointed, unless they (the women) agree to forgo it, or he agreeth to forgo it in whose hand is the marriage-tie. To forgo is nearer to piety. And forget not kindness among yourselves. Allah is Seer of what ye do.” (Al-Baqarah:237)

It is a matter of fact that the woman is more emotional and sentimental than the man. If she is awarded the right of divorce, she can separate herself from her husband over a trifle, So, for the betterment of the family  system , it is necessary that only the husband should enjoy the right of divorce.