Islamicinfo.com

Islamic Information Islam religion Information-Islamic Belief and Islamic Current Affairs
Subscribe

Doost aur Doostee

August 13, 2014 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

شیطان ابلیس کا خطاب

May 31, 2014 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

محمد رفیق اعتصامی
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اور ہم نے تم کو پیدا کیاپھر تمھاری صورتیں بنائیں پھر حکم کیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سجدہ کیا سب نے مگر اابلیس کہ نہ تھا سجدہ کرنے والوں میں، اللہ نے فرمایا کہ تجھ کو کیا امر مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے حکم دیا اس نے کہا ک میں اس سے بہتر ہوں کہ مجھ کو بنایا تو نے آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے تو اتر یہاں سے تو اس لائق نہیں کہ تکبّر کرے یہاں پس باہر نکل تو ذلیل ہے۔ شیطان نے کہا کہ مجھے مہلت دے اس دن تک کہ لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں، فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی۔ ا س نے کہا کہ جیسا تونے مجھے گمراہ کیا ہے میں بھی انکی تاک میں بیٹھوں گا تیری سیدہی راہ پر پھر ان پر آؤں گا انکے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے اور نہ پائے گا تو اکژ لوگوں کو شکر گزار، اللہ تعالیٰ نے فرمایا نکل یہاں سے برے حال سے مردود ہوکر جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں ضرور بھر دوں گا دوزخ کو تم سب سے‘‘(الااعراف:۱۸)
اس بنا پر اب شیطان و انسان کی آپس میں دشمنی ہے اس کی ہرلمحہ یہ کو شش ہوتی ہے کہ انسان کو سیدہی راہ سے بھٹکادے۔ جو شخص دین اسلام کو قبول کرنے کی کوشش کرتاہے اوراسکی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو شیطان اسکی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور اسے اس راہ سے باز رکھنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور اسکے دل میں طرح طرح سے وسوسہ اندازی کرتاہے اور اسکے ان کاموں کو جو خلاف شریعت ہوتے ہیں انھیں وہ اسکی نظروں میں صحیح کرکے دکھا دیتا ہے اور اسے اسکا احساس بھی نہیں ہونے دیتا کہ انکا انجام غلط ہے۔
مثلاً جو لوگ بت پرستی کرتے ہیں وہ اسے غلط نہیں سمجھتے اور خود اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو اپنا خدا اور حاجت روا سمجھتے ہیں اور انکی عبادت کرتے ہیں۔ اسی طرح مجوسی لوگ آگ کی پوجا کرتے ہیں اور کائنات میں دو خداؤں کی حکمرانی تسلیم کرتے ہیں یعنی یزدان اور اہرمن اسی طرح دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کا حال ہے اگر وہ اپنے عقائد و اعمال کو غلط سمجھتے تو انھیں چھوڑ دیتے مگر شیطان نے انکے دلوں میں یہ بات بٹھادی ہے کہ تم اور تمہارے آباء و اجداد کا مذہبب بالکل صحیح ہے۔
اور جو لوگ مسلمان ہیں ان میں جو لوگ خلاف شرع کام کرتے ہیں تو شیطان ان کاموں کو انکی نظروں میں صحیح کرکے دکھادیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو زمانے کا دستورہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔ مثال کے طور پر جو لوگ رشوت لیتے ہیں وہ اسے رشوت نہیں سمجھتے بلکہ اسے ’’چائے پانی اور اللہ کا فضل‘‘ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم رشوت مانگتے تھوڑا ہی ہیں بلکہ لوگ خود ہی اسے ہماری جیب میں ڈال دیتے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟
اور جو سرکاری ملازم رشوت لینے کے عادی ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپکی تنخواہ کتنی ہے ما شاء اللہ؟ تو وہ نہایت متانت سے یہ جواب دیتے ہیں کہ بھائی !تنخواہ تو تھوڑی ہے مگر ’’اوپر سے‘‘ اللہ میاں کا بڑا فضل ہے۔ اسی طرح اجناس میں ملاوٹ کرنے والے بھی اس کام کو صحیح سمجھتے ہیں اور بلا خوف و خطر کرتے ہیں انکے نزدیک چائے میں چنے کے چھلکے، سرخ مرچوں میں رنگا ہوا برادہ،مونگ کی دال میں موٹھ وغیرہ ملانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ انکی روزی کا مسئلہ ہے اور اسکے بغیر انکا کام نہیں چلتا۔
اسی طرح فحاشی، عریانی اور ناچ رنگ کو تہذیب و ثقافت کا نام دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ روح کی غذا اور زندہ قوموں کی پہچان ہے اور موسیقی سننے سے روح کے بند دریچے کھل جاتے ہیں۔ یہ سب باتیں اس لئے عرض کی گئی ہیں کہ شیطان نے انسان کے دل میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ با لکل جائز اور صحیح ہے۔ اسی طرح انسان کی زندگی بیت جاتی ہے اور اسے اپنے غلط کاموں کا احساس نہیں ہوتا۔
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جس شیطان ابلیس کی اطاعت کرتے وہ ساری زندگی گذار دیتا ہے وہ روز قیامت انسان سے اپنی بر۱ئت کا اظہار کر دے گا کہ تم نے دنیا میں جو غلط کام کئے ہیں وہ اپنی مرضی و اختیار سے کئے ہیں اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔قرآن پاک میں یہ بات بیان کی گئی ہے’’اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہو جائے گا سب کاموں کا کہ اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے بھی تم سے ایک وعدہ کیا تھا پھر جھوٹا کیا اسکو اور میری تم پر کوئی حکومت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے بلایا تم کو پھر تم نے مان لیا میری بات کو پس الزام نہ دو مجھ کو اور الزام دو اپنے آپ کو نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچو میں منکر ہوں اس سے جو تم نے مجھ کو شریک بنایا تھا اس سے پہلے اور جو ظالم ہیں انکے لئے دردناک عذاب ہے‘‘(ابراہیم:۲۲) ۔
ہم دنیا میں جو غلط کام کرتے ہیں تو اسکا الزام شیطان کو دیتے ہیں کہ اس نے ہمیں بہکایا تو ہم نے یہ غلط کام کئے یا ہم شیطان کے بہکاوے میںآگئے تھے تو ہم سے ایسا ہو گیا اور اپنی کسی غلطی کو تسلیم نہیں کرتے گویا ہم فرشتے ہیں اور کوئی غلطی نہیں کرتے اور ہر قسم کے غلط کام ہم سے شیطان ہی کرواتا ہے۔
مثلاً کوئی شخص اگر نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا، غلط بیانی یا کسی غلط کاری میں مبتلا ہے تو سب کا ذمہ دار وہ شیطان ہی کو ٹھراتا ہے مگر یہ بات تو تب صحیح ہو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ روز قیامت تمام انسانوں کا حساب لینے کی بجائے صرف شیطان ہی کو پکڑلیں اور کہیں کہ تو نے میرے بندوں کو بہکایا ااور انھیں برائی میں مبتلا کیا وہ تو سب میرے فرمانبردار بندے تھے مگر تو نے انھیں گمراہ کر کے چھوڑا لہٰذا اب تو ہی ان سب کی طرف سے سزا بھگت! اور پھر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے! مگر ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالی ٰنے انسان کو ایک ایسی روشنی عطا کی ہے کہ جس سے وہ اپنے برے بھلے کی پہچان کر سکتا ہے چنانچہ فرمایا ’’ ہم نے انسان کو دو ابھرے ہوئے ٹیلوں (نیکی اور بدی) کی راہ دکھائی‘‘(القرآن) اور پھرانسان کو اسکا اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ دونوں راستوں میں سے اپنے لئے ایک راستہ کا انتخاب کر لے۔
لہٰذا روز قیامت حساب و کتاب انسان کے اچھے اور برے اعمال کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ شیطان کے بہکاوے پر!! لہٰذا آج وقت ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ ہم کس طرف جارہے ہیں آیا ہمارے اعمال شریعت کے مطابق ہیں یا شیطان کی اطاعت گذاری میں؟

Kamyab Zindagi ka Raz

May 27, 2014 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

The Pleasures of Paradise

May 25, 2014 By: Mohammad Rafique Etsame Category: Current Islamic Articles

By M. Abdulslam

The reality of Paradise is something which people will never be able to understand until they actually enter it, but God has shown us glimpses of it in the Quran.  He has described it as a place essentially different to the life of this world, both in the very nature and purpose of life, as well as the types of delights which people will enjoy therein.  The Quran tells people about Paradise, which God offers to them, describes its great blessings, and proclaims its beauties to everyone.  It informs people that Paradise is one of two ways of life prepared for them in the afterworld, and that every good thing will be theirs in Paradise to a degree that surpasses our present ability to imagine.  It also shows that Paradise is a place where all blessings have been created perfectly and where people will be offered everything their souls and hearts will desire, and that people will be far removed from want and need, anxiety or sadness, sorrow and regret.  Every kind of beauty and blessing exists in Paradise and will be revealed with a perfection never seen or known before.  God has prepared such blessings there as a gift, and these will be offered only to people with whom He is pleased.

But what is the nature of these delights in Paradise, and how will it be different from the delights of this world?  We will try to highlight a few of these differences.

Pure delight without pain and suffering

While people in this world experience some delight, they also face much toil and suffering.  If one was to scrutinize the life which they live, they will find that the amount of hardship they face is much more than the ease and comfort.  As for the life of the Hereafter, there will be neither hardship nor suffering in it, and people will live therein in pure joy and delight.  All the causes of sorrow, pain and suffering which people experience in this life will be absent in the Hereafter.  Let’s take a look at some of these causes.

Wealth

When one thinks of success in this life, they usually conjure the image of big houses, fine jewelry and clothing, and expensive cars; financial stability is seen to be the key to a happy life.  To most people, success is inseparably related to wealth, even though this is the furthest from the truth.  How many times have we seen the wealthiest of people living such miserable lives, that it sometimes even leads them to commit suicide!  Wealth is something which humans in their very nature desire at any cost, and this desire has been created for a great and wise purpose.  When this desire is not satiated, it causes some extent of grief in a person.  For this reason, God has promised the inhabitants of Paradise that they will have all that they imagined as far as wealth and belongings are concerned, both for those who were extremely poor, experiencing even hunger and thirst, to those well-to-do but who desired even more.  God gives us a glimpse of this when he says:

“… there will be there all that the souls could desire, all that the eyes could delight in …” (Quran 43:71)

“Eat and drink at ease for that which you have sent forth (good deeds) in dayspast!” (Quran 69:24)

“… They will be adorned therein with bracelets of gold, and they will wear green garments of fine silk and heavy brocade.  They will recline therein on raised thrones.  How good [is] the recompense!  How beautiful a couch [is there] to recline on!” (Quran 18:31)

Disease and Death

Another cause of pain and suffering in this life is the death of a loved one or disease, which are both non-existent in Paradise.  None will feel any sickness or pain in Paradise.  The Prophet Muhammad, may the mercy and blessings of God be upon him, said about the people of Paradise:

“They will never fall ill, blow their noses or spit.” (Saheeh Al-Bukhari)

None will die in Paradise.  All shall live eternally enjoying the pleasures therein.  The Prophet Muhammad said that a caller will call out in Paradise when people enter it:

“Indeed may you be healthy and never be sick again, may you live and never die again, may you be young and never grow feeble again, may you enjoy, and never feel sorrow and regret again.” (Saheeh Muslim)

Social Relationships

As for the remorse felt due to a rift in personal relationships, people will never hear any evil or hurting comments or speech in Paradise.  They will only hear good words and words of peace.  God says:

“They will not hear therein ill speech or commission of sin.  But only the saying of: Peace! Peace!” (Quran 56:25-26)

There will be no enmity between people nor ill-feelings:

“And We shall remove from their breasts any (mutual) hatred or sense of injury (which they had, if at all, in the life of this world)…” (Quran 7:43)

The Prophet said:

“There will be no hatred or resentment among them, their hearts will be as one, and they will glorify God, morning and evening.” (Saheeh Al-Bukhari)

People will have the best of companions in the Hereafter, who were also the best people in the world:

“And whoever obeys God and the Messenger – those will be with the ones upon whom God has bestowed favor – of the prophets, the steadfast affirmers of truth, the martyrs and the righteous.  And excellent are those as companions!” (Quran 4:69)

The hearts of the people of Paradise will be pure, their speech will be good, their deeds righteous.  There will be no hurtful, upsetting, offensive or provocative talk there, for Paradise is free of all worthless words and deeds. If we were to discuss all the causes for anguish in this life, we would surely find its absence or opposite to be true in Paradise.

Courtesy The Religion of Islam